26 / 33

کیا مجھے ترغیب دینے والے حالات سے بچنا چاہیے

اب تک آپ کو صاف اور براہِ راست مشورہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اسے محض تجویز کے بجائے ہدایت سمجھیں۔ اس مشورے کی ٹھوس عملی وجوہ ہیں، جن کی تائید ہزاروں کیس اسٹڈیز سے ہوتی ہے۔ لیکن اس سوال کا معاملہ مختلف ہے کہ آیا آپ کو ترغیب سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے یا نہیں۔ ہر صارف کو اس کا فیصلہ خود کرنا ہوگا۔ تاہم، اس عمل میں آپ کی مدد کے لیے دو مفید مشورے دیے جا سکتے ہیں۔ مستقبل میں ترکِ عادت کی علامات کی تکلیف کا خوف ہی ہمیں باقی زندگی فحش مواد استعمال کرتے رہنے پر مجبور کرتا ہے، اور اس خوف کے دو الگ مرحلے ہیں۔

پہلا مرحلہ - ”میں فحش مواد کے بغیر کیسے جی پاؤں گا؟“

یہ خوف گھبراہٹ کا وہ احساس ہے جو صارف کو اس وقت ہوتا ہے جب وہ اکیلا ہو یا اس کا ساتھی غیر جنسی رجحان رکھتا ہو، دلچسپی نہ رکھتا ہو یا دستیاب نہ ہو۔ یہ خوف ترکِ عادت کی علامات کی تکلیف سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ انحصار کا ایک نفسیاتی خوف ہے: یہ خوف کہ وہ جنسی تعلق اور جنسی لذت کی انتہا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکے گا۔ یہ اس وقت عروج پر ہوتا ہے جب آپ چھوڑنے کے قریب ہوتے ہیں، حالانکہ اس وقت ترکِ عادت کی علامات کی تکلیف سب سے کم ہوتی ہے۔ یہ انجانے کا خوف ہے، اسی طرح کا خوف جو لوگوں کو غوطہ لگانا سیکھتے وقت محسوس ہوتا ہے۔

چھلانگ لگانے کا تختہ ایک فٹ اونچا ہوتا ہے، مگر چھ فٹ اونچا دکھائی دیتا ہے۔ پانی چھ فٹ گہرا ہوتا ہے، مگر ایک فٹ گہرا دکھائی دیتا ہے۔ یہ یقین ہوتے ہوئے کہ آپ کا سر ٹکرا کر پھٹ جائے گا، چھلانگ لگانے کے لیے ہمت درکار ہوتی ہے۔ چھلانگ لگانا ہی سب سے مشکل حصہ ہے؛ اگر آپ ایسا کرنے کی ہمت کر لیں تو باقی سب آسان ہے! اس سے سمجھ آتا ہے کہ قوتِ ارادی رکھنے والے بہت سے صارفین نے کبھی چھوڑنے کی کوشش کیوں نہیں کی، یا جب کی تو صرف چند دن ہی کیوں گزار سکے۔ درحقیقت، کچھ صارفین جو فحش مواد کے استعمال پر پابندیاں لگاتے ہیں، چھوڑنے کا فیصلہ کرنے کے بعد اسے بے تحاشا دیکھنے لگتے ہیں اور زیادہ سخت نوعیت کی ویڈیوز کی طرف اس سے بھی جلد بڑھ جاتے ہیں جتنا وہ چھوڑنے کا فیصلہ نہ کرنے کی صورت میں بڑھتے۔ اس فیصلے سے گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے، جو تناؤ کا باعث بنتی ہے اور حرم کا چکر لگانے کا محرک بن جاتی ہے۔ مگر اب آپ وہاں نہیں جا سکتے، جس سے محرومی کے خیالات پیدا ہوتے ہیں اور تناؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔

جب برداشت جواب دے جاتی ہے اور آپ براؤزر کھول لیتے ہیں تو یہ محرک فوراً سرگرم ہو جاتا ہے۔ فکر نہ کریں، یہ گھبراہٹ محض نفسیاتی ہے۔ یہ اس بات کا خوف ہے کہ آپ اس پر منحصر ہیں۔ خوبصورت سچ یہ ہے کہ آپ اس پر منحصر نہیں ہیں، چاہے آپ کو اب بھی اس کی لت ہو۔ گھبرائیں نہیں اور چھلانگ لگا دیں۔

دوسرا مرحلہ - طویل المدتی خوف

دوسرا مرحلہ طویل المدتی ہے، جس میں یہ خوف شامل ہے کہ مستقبل میں بعض حالات سے لطف نہیں آئے گا یا آپ فحش مواد کے بغیر کسی صدمے کا سامنا نہیں کر پائیں گے۔ فکر نہ کریں، اگر آپ چھلانگ لگانے کی ہمت کر لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ترغیب سے بچنے کی کوشش خود دو اقسام میں بٹتی ہے۔

  1. ”میں فحش مواد صرف ہر چار دن بعد دیکھنے کی پابندی اختیار کروں گا۔ یہ جان کر مجھے زیادہ اعتماد محسوس ہوگا کہ اگر مشکل ہوئی تو میں آن لائن جا سکتا ہوں۔ اگر میں ناکام ہوا تو کوئی بات نہیں، میں اگلے چکر میں مزید دن بڑھا دوں گا۔“

    ایسا کرنے والوں میں ناکامی کی شرح یکسر چھوڑ دینے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر ترکِ عادت کی مدت میں آپ پر کوئی مشکل لمحہ آئے تو مندرجہ بالا بہانوں سے براؤزر کھول کر حرم کا چکر لگانا آسان ہوتا ہے۔ اگر آپ کو شیشے کی کھڑکی چکناچور ہونے کی طرح اپنے ہی اصول واضح طور پر توڑنے کی خفت کا سامنا ہو تو آپ کے لیے اس ترغیب پر قابو پانا زیادہ ممکن ہوتا ہے۔ بہرحال، اگر آپ کچھ دیر انتظار کرتے تو غالباً وہ تکلیف پہلے ہی گزر چکی ہوتی۔ تاہم، ان صورتوں میں ناکامی کی بلند شرح کی اصل وجہ یہ ہے کہ صارف نے ابتدا ہی میں چھوڑنے کا مکمل پختہ ارادہ نہیں کیا تھا۔ یاد رکھیں، کامیابی کے لیے دو چیزیں لازمی ہیں:

    • یقین۔

    • ”کیا یہ حیرت انگیز نہیں کہ اب مجھے فحش مواد کی ضرورت نہیں رہی؟“

    دونوں ہی صورتوں میں آخر آپ کو فحش مواد دیکھنے کے ایک سیشن کی ضرورت کیوں ہے؟ اگر آپ کو اب بھی اپنے حرم جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو پہلے کتاب دوبارہ پڑھیں۔ کوئی بات ابھی پوری طرح ذہن نشین نہیں ہوئی۔ وقت نکال کر اپنے ذہن میں موجود ذہن سازی کے بڑے عفریت کو مکمل طور پر ہلاک کر دیں۔

  2. ”کیا مجھے ترکِ عادت کی مدت میں دباؤ ڈالنے والے حالات یا سماجی تقریبات سے بچنا چاہیے؟“

    دباؤ ڈالنے والے حالات کی بات ہو تو ہاں۔ خود پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ سماجی تقریبات، جیسے بار یا کلب جانے کے معاملے میں مشورہ اس کے برعکس ہے۔ فوراً باہر نکلیں اور لطف اٹھائیں! فحش مواد کی لت میں مبتلا ہوتے ہوئے بھی آپ کو جنسی تعلق یا اس کے افزائشِ نسل سے متعلق پہلو کی ضرورت نہیں۔ باہر جائیں اور اس بات پر خوش ہوں کہ آپ کو جنسی تعلق یا افزائشِ نسل کے لیے جنسی تعلق قائم کرنے کی ضرورت نہیں؛ اس سے آپ پر جلد ہی یہ خوبصورت سچ واضح ہو جائے گا کہ ان دباؤ کے بغیر زندگی کہیں بہتر ہے۔ ذرا سوچیے، جب وہ چھوٹا عفریت ان محتاجی بھرے خیالات سمیت آپ کو چھوڑ جائے گا تو زندگی کتنی بہتر ہو جائے گی۔